Thursday, 29 December 2022

PAKISTAN AIK KHWAB YA HAQEEQAT - ݐــــــاڪســــــٺان خــــــواب یـــــا حقیقت








ݐــــــاڪســــــٺان ایڪ خــــــواب یـــــا حقیقت

تحریر: ڪـــــاشف فـــــاروق۔ لاھـــــور سے



موجودہ سن 2022ء میں جو صورتحال چل رہی ہے وہ ناقابلِ سمجھ ہے۔

1۔ ہم نے آزادی کس مقصد کے لیے لی تھی؟

2۔ کیا یہ آزادی ٹھیک بھی تھی یا نہیں؟

3۔ علامہ اقبال نے پاکستان بننے کا خواب دیکھا تھا۔ کیا وہ خواب درست تھا بھی یا نہیں؟

4۔ علامہ اقبال کو خواب دیکھانے والا کون تھا؟

5۔ کیا پاکستان کا بنانا قائدِاعظم کا تصور تھا بھی یا نہیں؟

6۔ کیا پاکستان بنانا یا یہ آزادی جس کو ہم استعمال کررہے ہیں ٹھیک بھی ہے یا نہیں؟

7۔ آزادی دراصل کن سے حاصل کرنا تھی اور حاصل کس سے کی؟

ان تمام سوالات کے جوابات ہمارے اس آرٹیکل میں جانیے۔

 

پاکستان ایک خواب ہے یا حقیقت اس بارے میں جاننے کے لیے آرٹیکل تقسیمِ ہند سے شروع ہوتا ہے۔ دراصل یہ تقسیم ہند نہیں تھی بلکہ تقسیمِ مسلمانانِ ہند تھی۔ یہ مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی ایک بہت بڑی سازش تھی۔ یہ سارا چکر پنڈت نہرو کا چلایا ہوا چکر تھا۔ یہ بدمعاش تھا اور اس کا باپ موتی لال نہرو بھی انتہائی بدمعاش تھا اور اس چکر میں ساتھ ساتھ انگریز بھی شامل تھا۔

 

تقسیمِ ہند اگر ٹھیک ہوتی تو پاکستان کے دو حصے کبھی نہ ہوتے۔ سیاسی قسم کے مولوی لوگوں نے ملک اور دین دونوں کو بدنام کیا ہوا ہے۔ مولوی کہتے ہیں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ محمد الرسول اللہ ۔ صلی علیہ والہ وسلم۔ یعنی کلمہ بھی پڑھ رہے ہیں اور ساتھ میں مسلمانوں کو تقسیم بھی کررہے ہیں۔ باقاعدہ یہ بھی اعلان کررہے ہیں کہ 27 ویں شب ہے، رمضان ہے اور اللہ تعالی ہمیں ایک تحفہ دے رہا ہے پاکستان کی صورت میں۔۔۔ کتنا بڑا گناہ کما رہے ہیں یہ مولوی۔ اتنے بڑے دن 27 ویں کی شب مسلمانوں کو تقسیم کررہے ہیں۔

 

اگر یہ نیک کام تھا تو:

 1۔ مشرقی پاکستان کیوں بنا؟

2۔ کشمیر وبال جان کیوں بنا؟

3۔ آج ہم بجلی پانی گیس کو کیوں رو رہے ہیں؟

4۔ سن 2020ء میں ہم نے کراچی کو کیوں ڈبو دیا؟

 

تـــــشریـــــح:

دراصل ہوا یہ تھا کہ نہرو صاحب چاہتے تھے کہ حکومت ہمیں مل جائے چاہے دیس کو تقسیم کیوں نہ کرنا پڑجائے۔ یہ سارا چکر نہرو کا چلایا ہوا تھا۔ جو ملک کلمہ پڑھ کر بنائے جاتے ہیں وہ ایسے تقسیم کبھی نہیں ہوتے۔ اللہ ہمارا بہت خیال رکھتا۔ یہ سب مولویوں کا چلایا ہوا چکر تھا۔ مولویوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ پاکستان نہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ جب کہ یہ الفاظ قائداعظم نے کبھی نہیں بولے۔ اگر ایسا ہی تھا تب بھی یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کبھی الگ نہ ہوتا۔ تب بھی کشمیر وبال جان نہ بنتا۔ انگریز نے ایک ہڈی ڈال دی کشمیر کی صورت میں بیچ میں کہ دونوں آپس میں لڑتے بھی رہیں گے اور تقسیم بھی کرگئے وہ ہمیں۔ وہ ڈیوائڈ اینڈ رول کرگئے۔

 

دیکھا جائے تو ہندو آج 2022ء کے حساب سے ابھی تک نہیں ٹوٹے۔ ہم نے ہندو کہا ہے، ہندوستان نہیں۔ ہم مسلمان ہی ٹوٹے۔ سب سے پہلے مسلمان ٹوٹے 1947 میں، پھر 1971 کی جنگ میں ہم مزید ٹوٹ گئے۔ دراصل 1965 کی جنگ میں ہم نے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ ہماری پاک فوج نے کھیم کرن پر قبضہ کرلیا تھا یہ ہمیں نہیں مل سکا۔ بعد میں واپس دینا پڑا۔ کشمیر کا ایک انچ بھی آپ کو نہ مل سکا۔ ہمیں واپس حدبندی پہ آکربیٹھنا پڑا، تو جنگ کا فائدہ کس کو ہوا؟؟؟ یقیناً انڈیا کو۔ ہماری معیشت مزید کمزور ہوگئی۔ ہمارے فوجی مفت میں اپنی جانیں دے گئے۔

 

سن 1999 میں کارگل میں جنگ ہوئی۔ کارگل ہمیں مل چکا تھا۔ پھر امریکہ کے کہنے پر ہمیں واپس دینا پڑا۔ اس جنگ میں  بھی ہمارے فوجی شہید ہوئے تھے۔ فوجی کس کھاتے میں شہادتیں دے رہے ہیں؟؟؟

 

تقسیم ہند ہم مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی ایک سازش ثابت ہوئی۔ آج انڈیا کا کونسا صوبہ ٹوٹا؟ کونسا بنارس ٹوٹا، کونسا بمبئی ٹوٹا، کونسا آندھرا پردیش ٹوٹا، کونسا مدراس ٹوٹا؟؟؟ ایک ایک صوبہ مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ ہندو کہیں سے بھی نہیں ٹوٹے۔ ہم مسلمان ہی ٹوٹے۔

 

مولویوں نے اچھا ڈھونگ رچایا ہوا ہے پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ۔۔۔ یہ کبھی قائداعظم نے نہیں فرمایا تھا نہ انہوں نے کبھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا لفظ بولا تھا۔ وہ شروع سے ہی لبرل تھے۔ مولوی لبرل کا مطلب فحاشی اور عریانی سمجھتے ہیں۔ اگر ایسا ہی تھا کہ مولوی ٹھیک ہیں تو پھر بھی یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ  پاکستان بعد میں 1971 میں کیوں ٹوٹا؟  اس کا کون جواب دہ ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی سازش تھی تو ان سوالات کے جوابات ضرور دیں:۔

 

1۔ اللہ تعالی کی مدد کیوں نہ ملی؟

 

2۔ کلمہ کبھی ٹوٹ سکتا ہے، کون بتائے گا کہ کلمہ 1971ء میں کیوں ٹوٹا؟ قائداعظم نے آپ کو پورا کلمہ بنا کردیا تھا مشرقی کلمہ اور مغر بی کلمہ۔

 

3۔ کون بتائے گا کہ کشمیر ہمارے لیے وبال جان کیوں بنا؟

 

4۔ کون بتائے گا کہ پاکستان بنتے ہی قائداعظم کی زندگی میں ہی سندھی مہاجر جھگڑے کراچی میں 1947 میں شروع ہوگئے تھے؟

 

اس سوال نمبر 4 کا تو جواب ہم بتاتے ہیں۔ سب سے پہلا سندھی مہاجر جھگڑا کراچی میں 1947 میں قائداعظم کی زندگی میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ ان کو تب ہی احساس ہوگیا تھا کہ پاکستان غلط بنا ہے۔ یہ تقیسمِ ہند نہیں تھی بلکہ تقسیمِ مسلمانانِ ہند تھی۔

 

سن 1988 میں پیپلز پارٹی کا اقتدار آیا تھا پاکستان میں۔ یہ اندر کی کہانی ہے جو حقیقت پر مبنی ہے 100٪ جو آپ کو نہیں ہے معلوم۔ ہمارے حیدرآباد اور کراچی میں عزیز رشتہ دار ہیں۔ یہ اندر کی کہانی کچھ یوں ہے کہ سندھیوں نے مہاجروں پر ظلم شروع کردیے تھے۔ وہ مہاجروں کو ناحق سزائیں دیتے تھے۔ مثلاً یہ ٹیلی فون کا کھمبا لگا ہے اس پر الٹا چڑھ جاؤ یعنی سر نیچے اور پیر اوپر اور جب تک ہم کھڑے ہیں الٹا کھڑے رہو۔ ان کے ہاتھوں میں بندوقیں ہوتی تھیں۔ یہ سندھی اپنی زبان سے حلق سے کوئی لفظ بولتے تھے اور پوچھتے تھے بتاؤ اس کا مطلب کیا ہے۔ مہاجروں کو سندھی نہیں آتی تھی۔ یہ جان بچانے کی خاطر بولتے تھے کہ ہم سندھی ہیں۔ اس لفظ کا  جواب ان کو نہیں آتا تھا تو سندھی انہیں گولیوں سے مار دیتے تھے۔

 

حیدرآباد میں ایک علاقہ ہے قاسم آباد جو سندھیوں گڑھ ہے۔ یہاں ایک غیر سندھی داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ جو جاتا تھا اس کو مار دیتے تھے۔ یہ 1989 میں ہوا تھا۔ حتیٰ کہ پنجابی یا پٹھان بھی نہیں جاسکتے تھے۔ یہ سندھی انتہائی تعصب پسند قوم ہیں۔ ان کے سندھی مہاجر جھگڑوں سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے مہاجروں کو قبول ہی نہیں کیا۔ تو پاکستان بنانے کا مقصد پھر کیا تھا؟

 

کیا یہ مسلمانوں کے لیے ایک ریاست نہیں بنی تھی؟ آج 2022ء میں ہندوستان میں 40 سے 50 کروڑ مسلمان رہائش پذیر ہیں۔ اگر یہ پاکستان مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست بنی تھی تو ہندوستان کے باقی 50 کروڑ مسلمانوں کو کیوں نہیں پناہ دی جاسکتی۔ پھر انہیں بھی پاکستان میں ہی پناہ دی جائے۔ سندھیوں، پنجابیوں اور پٹھانوں سے تو کراچی کے ڈھائی کروڑ مسلمان مہاجر نہیں سنبھل رہے۔ یہ مزید 50 کروڑ کو کہاں سے پناہ دیں گے؟؟؟ یہ وہی مہاجرین ہیں جو انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔

 

حیدرآباد میں جو میرے ذاتی رشتہ دار رہتے ہیں انہوں نے سن 1989 میں اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر ساری ساری راتیں جاگ کر گزاریں اور گھر کی حفاظت کی ہتھیاروں کے ساتھ کہ کہیں کوئی سندھی گھر میں داخل ہو کر قتل یا آگ نہ لگا دے۔

 

جو قوم اپنے نبیوں کی باتوں کی مخالفت کرتے ہیں یا ان  کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل نہیں کرتے وہ جہنمی ہوتی ہے۔ یہ سندھی بھی جہنمی ہیں۔ انہوں نے اپنے نبی کی بتائی ہوئی بات پر عمل بالکل نہیں کیا۔ انہوں نے مہاجروں کو مارا۔ انہیں ذلیل کیا۔ انہیں قتل کیا۔ اسی لیے یہ جھگڑے روکنے کے لیے پاکستان کی فوج جو دراصل پنجاب کی فوج کہلاتی ہے کیونکہ فوج میں زیادہ تر پنجابی اور پٹھان شامل ہیں، تعینات کیا سندھ بھر میں خصوصاً حیدرآباد اور کراچی میں حالات کو قابو کرنے کے لیے تو انہوں نے بھی مہاجروں کو گالیاں دیں انہیں زبردستی مرغا بنایا۔

 

 یہ سب واقعات 1989 کے بےنظیر پیپلز پارٹی کے دور کے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فوج نے بھی اپنے نبی ﷺ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی باتوں کو نہیں مانا۔

 

آپ سب کو معلوم ہے کہ ہمارے نبی ﷺ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب ہجرت کی تھی تو وہ بھی مہاجر کہلائے تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے مدینہ پہنچتے ہی انصار مدینہ اور مہاجرین مکہ کو آپس میں باقاعدہ بھائی بھائی بنا کر دیکھایا تھا۔

 

جو لوگ مہاجر بن کر پاکستان آئے تھے، یہاں کی قوم خاص طور پر پنجابی اور سندھی ان کو مختلف قسم کے نام دیتی تھی اور آج بھی نام دیتی ہے۔ کسی کو مٹروا، کسی کو بھیا، کسی کو تلئیر۔۔۔

 

مستنصر حسین تارڑ صاحب ہمارے بہت ہی عظیم رائیٹر ہیں۔ ابھی زندہ ہیں اور گزر رہے ہیں۔ ابھی گزرے نہیں ہیں۔ پھر ایک دن آئے گا کہ یہ ہم میں نہیں ہونگے۔ یہ بھی گزر چکے ہونگے۔ انہوں نے اپنی کتاب "آسٹریلیا آوارگی" میں شان و شوکت سے لکھا ہے کہ مہاجروں کو ہم "تلئیر" بولتے ہیں۔

 

سندھی حضرات مہاجروں کو خاص لقب دیتے ہیں "اردو بولنے والے"۔ قائدِاعظم نے فرمایا تھا کہ "اردو ہماری قومی زبان ہوگی" تو یہ سندھی ان کے اس قول کو نہیں مانتے۔ یہ طنز کرتے ہیں مہاجروں پر کہ یہ کوئی خاص قوم ہے جو صرف اردو ہی بولتی ہے۔ یہ سندھی تو صاف صاف مہاجروں کو بولتے ہیں کہ "تم لوگوں نے کراچی چھین لیا ہے۔ ہم تمہیں حیدرآباد لینے نہیں دینگے"۔

 

سوال نمبر 5۔ کون بتائے گا کہ پاکستان کے بنتے ہی کتنے صوبے پاکستان کو ملے تھے؟

 

اس کا جواب بھی ہم بتاتے ہیں کہ پاکستان کے صرف تین صوبے تھے "صوبہ بنگال یعنی مشرقی پاکستان، صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ۔" یہ پنجاب اور سندھ بھی پورے نہیں تھے۔ پنجاب میں بہاولپور اور سندھ میں خیرپور الگ ریاستیں تھیں۔ ان کے نوابوں سے پوچھا گیا تھا کہ تمہیں کس کے ساتھ شامل ہونا ہے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ؟ تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ رضامندی ظاہر کی تھی۔

 

اگر وہ ہندوستان کے ساتھ شامل ہوجاتے تو آپ کو ریلوے لائن بھی پوری نہ ملتی۔ آپ اندرون سندھ اور اندرون پنجاب کی لائنیں استعمال کرتے کراچی جانے کے لیے۔ صوبہ بلوچستان اور سرحد نے تو آزادی کا اعلان کردیا تھا۔ قائداعظم کی زندگی میں ہی 1947 میں ہی پاک فضائیہ نے ان کے قبائلیوں پر فضائی حملے کرکے ان سے زبردستی پاکستان میں شمولیت کروائی تھی۔ ورنہ تو وہ بھی آزاد تھے۔

 

سوال نمبر 6۔ آج 2009 ء سے لیکر ابھی تک پاکستان کے بے شمار شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بری طرح کیوں ہورہی ہے؟

 

سوال نمبر 7۔ علامہ مشرقی کی پیشن گوئیاں کیوں درست ثابت ہوئیں؟ ان کی پیش گوئیوں کی کتابیں حکومتِ پاکستان نے جان بوجھ کر چھپا لیں ہیں اور سامنے نہیں آنے دی ہیں۔

 

سوال نمبر 8۔  مولانا عبدالکلام آزاد، مولونا شوکت علی اور جوہر علی کیوں پاکستان کے حق میں نہیں تھے؟

 

یہ نیچے سوال نمبر 9 تو انتہائی ضروری ہے سمجھنے کے لیے:۔

9*۔ علامہ اقبال کو ایک خواب آیا تھا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم ﷺ ان کے خواب میں تشریف لائے ہیں اور انہوں نے پاکستان بننے کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایا۔ اگر یہ مبارک خواب ہے تو پھر بھی یہی سوالات جنم لیتے ہیں کہ پاکستان کیونکر ٹوٹا 1971 میں اور کشمیر کیوں وبال جان بنا آج تک اور شاید قیام پاکستان تک رہے گا؟

 

میری ضروری بات:

 میں کہتا ہوں کہ مرزا غالب، میر تقی میر، فیض احمد فیض اور علامہ اقبال یہ چاروں شرابیں پیتے تھے۔ یہ شرابی تھے۔ علامہ اقبال کو شراب پینے کی وجہ سے ایسا خواب آیا تھا۔


سب سے آخر میں بتایا جائے گا کہ علامہ اقبال ایک عورت کے قاتل بھی تھے انہوں نے لاہور کی ہیرا منڈی کی ایک طوائف عورت کا خون کیا تھا۔ علامہ اقبال نے کل تین شادیاں کی تھیں۔ تینوں ہی ناکام رہی تھیں۔

 

ALLAMA IQBAL WAS THE MURDERER

 

۔۔۔ اور خیر سے مرزا غالب تو مشہور ہی تھے کہ وہ شرابی تھے۔ ان کو تو باقاعدہ جیل تک ہوئی تھی شراب پینے اور جوا کھیلنے میں۔ شطرنج جوئے کے طور پر کھیلتے تھے۔ تو آپ سب کو معلوم ہے کہ شراب پینا اور جوا کھیلنا کونسا نیک کام ہے!!! یہ ہمارے بزرگوں کا حال تھا۔

 

پاکستان کی آرمی میں جس قدر کرپشن اور ہم جنس پرستی کی بےہودہ حرکتیں کی جاتی ہیں شاید ہی پاکستان کے کسی اور محکمہ میں کی جاتی ہونگی۔ ذرا آرمی کے کیڈٹ کالجز کا خفیہ دورہ تو کریں آپ کو معلوم ہوگا کہ حقیقت کیا ہے۔ اس میں پولیس، فضائیہ، نیوی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اس ملک میں 98٪ لوگوں کا ایمان اٹھ چکا ہے۔ آرمی والے بھی شرابیں پیتے ہیں، یحیحی خان بھی پیتا تھا۔ ایوب خان  بھی پیتا تھا۔ مشرف خاں صاحب بھی پیتے تھے اور پیتے ہیں۔ جب تک زندہ ہیں تب تک پیئیں گے۔

 

اب ہم اینٹی نارکوٹکس کی انتظامیہ کے بارے میں نہیں بولیں گے کہ وہ بھی پیتے ہیں۔ ان کو پینا پڑتی ہے تاکہ انہیں شراب وغیرہ کا زائقہ یاد رہے۔

 

کہتے ہیں کہ 30، 40 سال پہلے 1980ء کی دہائی میں کسی بزرگ نے یہ پیش گوئی کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میری آنکھیں پاکستان میں بہت بڑا خون خرابہ دیکھ رہی ہیں۔ شاید یہ درست ہونے جارہی ہے۔ ملک کے جو معاشی حالات جارہے ہیں وہ 100٪ تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ سی پیک کو بھول جائیں ضروری نہیں کہ پورا ہو، اگر پورا ہو بھی جاتا ہے تو بھی ضروری نہیں کہ فائدہ مند ہو۔ وہ تو صرف ایک راہداری ہے۔ 2030ء کے بعد جو ملک کے حالات شروع ہونگے وہ انتہائی دردناک ہونگے شاید ریاست کا وجود بھی باقی نہ رہے معاشی طور پر۔

 

 پاک فوج یقیناً ایک دن بری طرح سے بدنام ہوگی۔ یہ بات ضرور سمجھنا کہ ایران کی افواج اور حتی کہ سعودیہ کی افواج تک میں ہم جنس پرستی کی حرکات سرعام ہوتی ہیں۔ صرف بھارتی فوج میں یہ حرکات منع ہیں۔

 

میرا بحثیتِ رائٹر ایک مشورہ ہے کہ ایک سائٹ ہے: www.equaldex.com

 اس کو ضرور ملاحظہ کرنا۔ پاک فوج دراصل خؤد کشمیر کو حل کرنا نہیں چاہتی۔ کیونکہ ان کو کشمیر کے نام پر دفاع کا بجٹ ملتا ہے اور ریٹائرڈ آرمی والے یہی بجٹ ڈی ایچ اے میں زمینیں خریدنے پر لگا دیتے ہیں۔

 

آخر میں سوال نمبر 9* کا اصل جواب یہ ہے کہ اس خواب کی یہ تعبیر بنتی ہے کہ ''ملک کو آگ لگے گی اور لوگ ہلاک ہونگے"۔ اگر یہ تعبیر غلط ہے تو آپ بتائیں کہ اصل تعبیر کیا ہے!!!

 

پھر پاکستان 1971ء میں کیوں ٹوٹا؟ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہم ایٹم بم بنائیں گے اور ساتھ میں گھاس بھی کھائیں گے۔ تو آج ہم گھاس ہی کھا رہے ہیں۔

 

کیا یہی اصل تعبیر ہے اس خواب کی کہ ہم نے بنگالیوں کو ان کا حق نہیں دیا۔ پاکستان بننے کے ٹھیک 3 سال بعد 1950 میں ہی انہوں نے اپنی آزادی کی تحریک شروع کردی تھی۔ کیونکہ ڈھاکہ کی آبادی اس وقت اور آج بھی 55٪ ہے جبکہ کراچی کی آبادی 45٪ تھی اور آج بھی اسی مناسبت سے ہے۔ قائداعظم نے دیکھا کہ ہم کراچی میں پیدا ہوئے تھے چلو کراچی کو ہی دارالخلافہ بنا دو۔ انہوں نے کراچی کو دارالخلافہ بنا دیا۔ بنگالی اس بات سے چڑ گئے کہ ہم نے بھی تو قربانیاں دیں تھیں وہ کہاں گئیں!!!

 

قومی زبان تو اردو ٹھیک تھی کیونکہ بنگالی اردو سمجھ لیتے ہیں۔ قائداعظم کو پہلے پانچ سال ڈھاکہ اور دوسرے پانچ سال کراچی کو دارالخلافہ رکھنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔

 

کچھ عرصے قبل شاید 2014ء کے دنوں میں ایک خبر ٹی وی پر بھی آئی تھی اور اخبارات میں بھی کہ "قائدِاعظم کے مزار کے نیچے بیس مینٹ میں لڑکا اور لڑکی ننگا عشق کرتے ہیں اور چوکیدار ملوث ہوتے ہیں"۔ گویا کہ جس شخص نے تمہیں ایک ملک بنا کر دیا اسی کے مزار کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ یقیناً ایک دن پھر ایسا آئے گا کہ آپ کو ہندوؤں کی غلامی کرنا پڑے گی اور قوم خود قائدِاعظم کے مزار کو گرا دے گی۔ علامہ اقبال کو خواب آیا تھا پاکستان بننے کا اس وقت علامہ اقبال اور قوم سو رہی تھی، اب آنکھ کھلنے والی ہے۔ ویسے بھی درمیان میں آنکھ کھلی تھی آپ کی سن 1971ء میں۔ ہاں بھئی ایک حصہ چلا گیا انڈیا نے پاکستان توڑ دیا اور کشمیر ابھی بھی نہیں ملا۔ آپ نے کروٹ لی اور دوبارہ دوسری طرف کروٹ لے کر سو گئے۔

 

قائدِاعظم والی تصویر کے نوٹ آپ کے سامنے پہلے 1971ء میں نالیوں میں پڑے تھے۔ وہ آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ اب دوبارہ ایک ایسا ہی وقت یقیناً آئے گا کہ یہ قائدِاعظم والی تصویر کے یہی نوٹ دوبارہ نالیوں میں پڑیں گے اور آپ دیکھیں گے۔ کم از کم آنے والی نسل تو ضرور دیکھے گی۔

 

قائدِاعظم والی تصویر کے انہیں نوٹوں پر لوگ ان کی آج بھی بےحرمتی کرتے ہیں کہ ان کی تصویر پر داڑھی مونچھیں بنا دیتے ہیں۔

 

قائدِاعظم شروع میں اسی لیے ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ پاکستان کی ریاست چار سال نہیں چلنے والی۔ آپ خود سوچیں کہ کیا ایسے ریاستیں بنتی ہیں کہ دو صوبے آزادی کا اعلان کردیں پاکستان بنتے ہی، سندھی مہاجر جھگڑے شروع ہوجائیں پاکستان بنتے ہی، کشمیر ہمارے لیے مستقل طور پر وبالِ جان بن چکا پاکستان بنتے ہی۔۔۔


جب پاکستان بنا تھا تو اس وقت چین پاکستان کا دوست ملک نہیں تھا۔ چین بھی انڈیا کے ساتھ تھا۔ جب اس کے انڈیا کے ساتھ کچھ سرحدی تنازعات بڑھ گئے تو اس کی انڈیا کے ساتھ 1962ء میں جنگ ہوئی۔ اس کے بعد ان دونوں میں دشمنی ہوگئی۔ پھر چین کا جھکاؤ پاکستان کی جانب ہوا ورنہ تو اس وقت کسی بھی ملک سے پاکستان کے دوستانہ تعلقات نہیں تھے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دنوں میں چین کا صدر بھارت آیا تھا تو بھارتی وزیراعظم نے ”چینی ہندی بھائی بھائی“ کے نعرے لگوا دیے تھے عوام سے کیونکہ پہلے چین بھارت کا دوست تھا۔ چینی صدر کو چڑہانے کے لیے۔ جن کی عمر 80 سال ہے ان کو یاد ہوگا۔

حتی کہ سعودی عرب تک پاکستان کا حمایتی ملک نہیں تھا۔ دبئی اور ایران یہ تمام ملک انڈیا کے حق میں تھے۔ دراصل سعودیہ تو آج بھی پاکستانیوں سے نفرت کرتا ہے۔ یہ صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں جنہوں نے وہاں نوکری کی ہے۔

افغانستان دنیا کا واحد مسلم ملک ہے جس نے پہلے ہی دن سے پاکستان کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں اٹک تک سارا صوبہ ہمارا ہے اس کے علاوہ بلوچستان کا شمالی علاقہ کوئٹہ والا حصہ بھی ہمارا ہے۔ اس لیے کہ مغلوں کے دور میں یہی تھا کہ صوبہ خیبر سارا افغانستان کا ہی تھا جس میں کوئٹہ کا علاقہ یعنی بلوچستان کا شمالی علاقہ بھی شامل تھا۔ پاک افغان سرحد انگریزوں نے ڈیورنڈ لائن کے نام سے بنائی تھی جس کو افغانستان نہیں مانتا۔

ایران سے بھی پاکستان کے کوئی خاص تعلقات نہیں تھے شروع سے ہی۔ یہ بھی انڈین نواز ہی تھے۔ 1980ء تک پھر کچھ تعلقات بہتر تھے۔ لیکن 1981ء میں ایرانیوں نے مکے کے حرم کو گھیر لیا تھا اور کسی کو جانے نہیں دے رہے تھے۔ سعودیہ کی حکومت نے پاکستان سے فوج'ی مدد مانگی۔ جنرل ضیاء نے سابق صدر پرویز مشرف کو بھیجا ایکشن لینے کے لیے۔ انہوں نے حرم کے اندر پانی بھر کے کرنٹ چھوڑ دیا۔ جس سے تمام کے تمام افراد ہلاک ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد سے ایران بھی اب پاکستان کا ایک دشمن ملک بن چکا ہے۔

دراصل پاکستان کو ٹھیک معانوں میں کسی بھی ملک نے شروع سے ہی تسلیم نہیں کیا تھا، حتی کہ چین نے بھی۔ چین کی دوستی انڈیا سے 1962ء کی انڈیا کے ساتھ ہونے والی جنگ سے پہلے تھی، اس کا جھکاؤ بھی انڈیا کی طرف ہی تھا۔ وہ تو چین کی انڈیا کے ساتھ جنگ کے بعد وہ ہمارا دوست بنا۔ لیکن ایسا بھی نہیں تھا کہ پاکستان کا دشمن تھا بس تعلقات نارمل تھے۔

پاکستان بننے سے پہلے گوادر دبئی کا حصہ تھا وہ پاکستان نے خریدا تھا۔

 

دو قومی نطریہ:

دو قومی نطریہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ ہم برصغیر کو تقسیم کرکے ہی بیٹھ جائیں۔ دو قومی نظریہ تو آج بھی پورے ہندوستان میں موجود ہے۔ پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے۔ اس سے مراد دراصل یہ تھی کہ ہندو اور مسلم دو بڑی قومیں برصغیر میں موجود ہیں۔ اس سے آگے کچھ نہیں۔ بالکل کچھ نہیں۔

 

جہاں بات رہی حکومت کی تو اخلاقی و اصولی طور پر جس کی آبادی زیادہ ہوتی ہے وہ کرتا ہے حکومت۔ اگر ہندو زیادہ ہیں تو وہ کریں گے۔ ان کا حق بنتا ہے۔ ہم یہ بھی کرسکتے تھے کہ تقسیمِ ہند کی بجائے 5 سال ہندو حکومت کریں اور 5 سال مسلمان۔ میرے ذاتی نظریے کے مطابق تقسیمِ ہند بالکل غلط تھی۔

 

انگریز ہندوستان کو سونے کی چڑیا کہتا تھا، اس لیے کہ یہاں کے کھانے پینے بہت اچھے ہیں۔ دارچینی، لونگ، کالی مرچ، زیرے یہ سب یہیں ملتے ہیں، پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتے، یہاں سے باہر جاتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ یہاں ہر شخص نوکر مل جاتا ہے۔ صفائی والی سے لیکر گھر کے مالی تک۔ باہر کے ملکوں میں ہر کام خود کرنا ہوتا  ہے۔

 

کشمیر کا ٹنٹا ختم ہونے والا ہے:

کشمیر پاکستان کو کبھی نہیں مل سکتا کیونکہ وہاں کا ایک مولوی تھا "مولوی شیخ عبداللہ" جس نے کشمیریوں کے ساتھ غداری کی تھی۔ یہ نہرو کا غلام بن گیا تھا۔ نہرو نے اسے پیسے کھلائے تھے۔ یہ باقاعدہ داڑھی والا تھا مولوی تھا۔ باقاعدہ آزانیں دیتا تھا اور نمازیں پڑھاتا تھا۔ اس نے داڑھی صاف کرلی تھی مکمل کلین شیو ہوگیا تھا اور انڈیا جا کر نہرو کی گود میں بیٹھ گیا تھا۔ اس لیے کشمیر کبھی پاکستان کو نہیں مل سکتا نہ آزاد ہوسکتا ہے۔ اس نے اپنے ہی شہریوں کو نہیں چھوڑا۔

 

آرٹیکل کا نتیجہ:

 ہمیں تقسیمِ ہند نہیں کرنا چاہیے تھی۔ ہمیں کانفیڈریشن رکھنا چاہیے تھی۔ چاہے ہمیں قومی حکومت ملتی یا نہیں ملتی۔ کم از کم ہمیں صوبائی حکومتیں تو ضرور مل جاتیں۔ لیکن ہم برِصغیر کے مسلمان تقسیم کبھی نہ ہوتے۔ یہ ہمیں توڑنے کی بہت بڑی سازش تھی، جس میں نہرو کتا اور انگریز کتے بھی شامل تھے۔ یہ نہرو کتا کہلانے کے قابل بھی نہ تھا۔ کتا بھی اپنے مالک کا وفادار ہوتا ہے۔ یہ نہرو کی سازش تھی کہ چاہے دیس کو تقسیم کیوں نہ کرنا پڑے کردو تقسیم بس حکومت ہمیں مل جائے۔ تاہم گاندھی جی خراب آدمی نہیں تھے۔ وہ ٹھیک تھے۔

 

دراصل برِصغیر کے اصل لیڈر قائدِاعظم محمد علی جناح اور گاندھی ہی تھے۔ باقی تمام کے تمام کارندے ٹھیک نہیں تھے وہ سازشی تھے۔

 

تقسیم کے بعد سے انڈیا میں ہندو مسلم فسادات اسی لیے زیادہ ہوتے ہیں کہ ہم تقسیم کرکے بیٹھ گئے۔ تقسیم سے یہ نقصان بھی ہوا کہ مسلمان بہت کمزور ہوگئے۔ کچھ مسلمان پاکستان والے حصے جسے ویسٹ انڈیا کہا جاتا تھا میں رہ گئے، کچھ اندرونِ انڈیا میں رہ گئے جو 50 کروڑ کے قریب ہیں اور کچھ 1971ء کی جنگ میں مزید ٹوٹے جو بنگلہ دیش میں رہ گئے۔ ہندو انڈیا میں مسلمانوں کو اسی لیے مارتے ہیں کیونکہ وہ تعداد میں کم ہیں۔ ہم مسلمانوں نے خود سرحدیں ڈال کر اپنے ہی آپ کو قید کرلیا۔ ہم نے یہ بھی نہ سوچا کہ اندرون انڈیا کے مسلمان کہاں جائیں گے ان کا خیال کون رکھے گا؟؟؟

 

آپ تاریخ پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ نہرو کے اس چلائے ہوئے چکر کی وجہ سے ہندو مسلم فسادات شروع ہوئے تھے۔ جب یہاں انگریز آیا تھا تو اس وقت کوئی ہندو مسلم فساد نہیں ہوتا تھا۔ آزادی کا مطلب صرف انگریز سے آزادی تھا اور بس۔۔۔ 1857ء کی جنگِ آزادی جو شروع ہوئی تھی وہ صرف انگریز سے آزادی کے لیے تھی۔ اس جنگِ آزادی میں انگریزوں نے ہندوؤں تک کو مارا تھا اور پھانسی پہ لٹکایا تھا۔

 

چونکہ سندھ کی حکومت دراصل پیپلز پارٹی کی ہوتی ہے تو یہ لوگ کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے ہوتے ہیں۔ صرف بیٹھ کر حکومت کرنا جانتے ہیں حکم چلانا جانتے ہیں نہ کہ حکومت کرنا۔ اب کراچی 2020ء میں ڈوبا تو اس میں ہرحال میں پیپلز پارٹی ہی ذمہ دار ہے۔ انہی کا وزیرِاعلیٰ ہوتا ہے اور انہی کا گورنر، یہ لوگ مفت کی تنخؤاہ کھاتے ہیں۔

 

عوام الناس کو سمجھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ بات اپنے ذہن میں رکھیں کہ 2013ء کے دور میں مسلم لیگ ن نے اسلام آباد تا لاہور موٹروے کو گروی رکھ کر آئی ایم ایف سے قرض لیا تھا۔ قرض اس رقم کو بولتے ہیں جو سود سمیت لوٹائی جاتی ہے۔ اگر نہیں لوٹا سکے تو وہ چیز جو گروی رکھی جاتی ہے چھین لی جاتی ہے۔ موٹروے کے علاوہ دیگر پاکستان میں جوبھی ترقی کے کام ہورہے ہیں آج 2020ء کے دور میں جس میں اورنج لائن، میٹرو، انڈرپاسز، بڑی بڑی سڑکیں، یہ سب کچھ آئی ایم ایف کے قرض کے پیسوں سے بن رہے ہیں۔ آج ہماری یہ حالت ہے کہ قرض لوٹانے کے لیے مزید قرض مانگا جارہا ہے۔ ملک جنگوں اور ہتھیاروں سے نہیں معیشت سے چلتے ہیں۔

 

آج  2022ء میں یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ پاکستان بنانے کا مقصد یہ نکلا کہ ''باہر سے قرض مانگا جائے اور ملک کے اندر موجود بینکوں کی رقوم کو منی لاندڑنگ کرکے باہر بھیجا جائے''۔ اگر یہ خطرناک سلسلہ چلتا رہا تو 2030ء کے بعد ملک کے وہ معاشی حالات ہونگے کہ آپ یاد رکھیں گے۔

 

جب 1965ء کی جنگ ہوئی تھی تو ہمارے معاشی حالات بہت اچھے تھے تبھی تو جنگ کی تھی، جبکہ ہتھیار نہ ہونے کے برابر تھے۔ آج  2022ء میں ہمارے پاس ہتھیار تو بہت ہے مگر جنگ کرنے کے لیے پیسہ بالکل نہیں ہے۔ جو پیسہ ہے وہ قرض کا پیسہ ہے۔ جنگیں جذبات سے ضرور لڑی جاتی ہیں لیکن ساتھ میں پیسہ بھی تو ہونا چاہیے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق ملک میں اس وقت  2022ء کے مطابق سرکاری خزانے میں قرض کی رقم کا مجموعہ 75٪ سے زیادہ ہے۔ جبکہ اصل رقم مسلسل باہر منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجی جارہی ہے۔

 

مسلم لیگ مسلمانوں کی  جماعت تھی اور یہ 1906ء میں ڈھاکہ میں قائم ہوئی تھی، کراچی میں نہیں کیونکہ وہاں کی آبادی زیادہ تھی اور کراچی کی کم اور آج 2022ء میں بھی اسی تناسب سے ہے۔ مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کی بھی ایک جماعت ہونی چاہیے۔ بالکل اسی طرح جیسے ہندوؤں کی جماعت کانگریس بنی۔ یہ پہلے بنی تھی۔ دونوں کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ہندوستان (برِصغیر) کی تقسیم کی جائے۔ اس کا پورا نام "آل انڈیا مسلم لیگ" تھا۔ اسی طرح کانگریس کا نام "آل انڈیا کانگریس" تھا۔

 

کانفیڈریشن سے مراد یہ ہوتی ہے کہ فوج ایک، کرنسی ایک، زبان ایک ( اب اگر ہندوستان ہے تو دو زبانیں اردو اور ہندی )، 5 سال ہندو حکومت کرے اور 5 سال مسلمان۔۔۔ اور یہی اصل دو قومی نظریہ ہے۔ دو قومی نظریہ سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ ہم تقسیم ہی کرکے بیٹھ جائیں۔

 

یہ تقسیم نہرو کی وجہ سے ہوئی تھی کیونکہ وہ حکومت کرنا چاہتا تھا۔ پتا نہیں یہ کس بےوقوف نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک ہونا چاہئے۔ جس نے بھی کہا تھا غلط کہا تھا۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہ سندھ میں آج پیپلز پارٹی والے اور سندھی کہتے ہیں کہ سندھ کا وزیرِاعلیٰ اور گورنر سندھی ہونا چاہیے کیونکہ سندھ میں سندھیوں کی آبادی زیادہ ہے۔ بالکل اسی طرح اگر دیکھا جائے کہ تقسیمِ ہند سے پہلے ہندوستان (برِّصغیر) میں ہندوؤں کی آبادی اس وقت مسلمانوں سے زیادہ تھی اور آج بھی زیادہ ہے۔ یہ ہندوؤں کی آبادی کا زیادہ ہونا یہاں برِّصغیر میں محمد بن قاسمؔ  اور مغل حکمرانوں کے دور میں بھی تھا۔ تو اسی مناسبت سے بھی ہندوستان کی تقسیم بالکل غلط تھی۔ مرکزی حکومت ہندوؤں کا حق تھا اور مسلمانوں کو صوبائی حکومت کا حق تھا۔ یعنی جس صوبے میں مسلمان زیادہ تھے اور ہیں اس کا گورنر اور وزیرِاعلیٰ مسلمان ہو۔

 

اُن دنوں نہرو نے ہندوؤں میں پھونک مارنا شروع کردی تھی کہ مسلمانوں کو مارو  تاکہ یہ کمزور اور تقسیم ہوجائیں خود الگ ملک کا مطالبہ کریں تاکہ مرکزی حکومت ہمیں مل جائے۔ کیونکہ اس سے پہلے مغلوں نے پورے ہندوستان پر حکومت کی تھی۔ یہ نہرو مسلمانوں کو تقسیم کرنے کا اصل ذمہ دار تھا۔  نہرو رپورٹ 1928ء میں بنی تھی اور بنانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ مسلمانوں کو طیش دلایا جائے چالاکی کے ساتھ اور انہیں تقسیم بھی کیا جائے جس میں وہ کامیاب ہوگیا۔ نہرو رپورٹ کے جواب میں قائدِاعظم نے پھر 14 نکات پیش کیئے جس میں ان سے ایک بہت بڑی غلطی ہوگئی کہ "سندھ کو بمبئی سے الگ کرکے ایک صوبہ بنایا جائے"۔ یہ سب کچھ غلط ہوتا آیا تھا۔ یہیں سے مسلمانوں کی تقسیم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

 

نہرو یہی چاہتا تھا کہ میں اپنی رپورٹ میں کچھ پیش کروں تاکہ جناح بھی کچھ پیش کریں اور اس میں کچھ غلطی کریں۔ یہ غلطی انگریز کو دیکھ کر کی گئی تھی۔ نہرو رپورٹ سے پہلے 1905ء میں انگریزوں نے ایک کام کر دکھایا تھا ڈیوائڈ اینڈ رول کا۔ انہوں نے تقسیم بنگال کرکے دونوں قوموں مسلمانوں اور ہندوؤں کے ذہنوں میں تقسیم کی شہہ بھری۔ انگریزوں کا اس وقت یہی مقصد تھا کہ ان دونوں قوموں کو آپس میں لڑاؤ، توڑو اور کمزور کرو۔

 

اردو زبان کے حوالے ایک اہم ضروری معلومات جو لوگوں بالکل نہیں پتہ۔ پاکستان بننے سے کچھ ہی دن پہلے قائدِاعظم کو کسی نے کہا تھا کہ قومی زبان فارسی کر لیتے ہیں۔ تو مولوی عبدالحق نے ان کو کہا تھا کہ "نہیں۔ قومی زبان اردو ہی کریں گے۔ ورنہ یہ اپنی اہمیت کھو دے گی"۔ پاکستان کا قومی ترانہ فارسی میں لکھا گیا تھا۔ کیونکہ برِّصغیر کی زبان اس وقت فارسی اور سنسکرت ہی ہوا کرتی تھی۔ پاکستان کے قومی ترانے کا آج تک کسی نے اردو میں ترجمہ نہیں کیا ہے۔

 

کچھ دنوں پہلے تک عمران خان صاحب کی حکومت چل رہی تھی۔ عمران خان کہتے ہیں پاکستان کو ہم مدینہ کی ریاست بنائیں گے۔ بھئی کیسے بنائیں گے؟؟؟ ان کی پہلی بیوی یہودہ جمائما تھی جس کی پہلی بیوی ہی یہودہ ہو وہ کیسے بنا سکتا ہے مدینہ کی ریاست؟؟؟ یہ برطانیہ میں جا کر شراب بھی بیتے ہوں گے۔ یہ تو کنفرم ہے کہ آصف زرداری، شاہ محمود قریشی اور پرویز مشرف صاحب تو پی چکے شرابیں برطانیہ میں۔ جس ملک کے حکمران شرابیں پیتے ہوں وہ کیسے مدینہ کی ریاست بنائیں گے؟؟؟؟  مدینہ کی ریاست میں تو کتا بھی بھوکا نہیں سوتا تھا۔ یہاں تو لوگ بھوکوں مر رہے ہیں اور مریں گے۔ پورا ملک ان لوگوں نے قرضوں میں جکڑ دیا۔ ایسے بنتی ہے مدینہ کی ریاست؟؟؟ کیا قرض حلال ہے؟؟؟

 

جس ملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو شہید کردیا گیا تھا 1951ء میں جنہوں نے پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے، جو اپنی جائیداد انڈیا چھوڑ کر آئے۔ یہاں آکر claim  تک نہیں کیا۔ ایسے ملک کبھی ترقی نہیں کرتے بلکہ ختم ہوتے ہیں۔

 

کچھ کتابوں میں میں نے یہ پڑھا تھا کہ خان لیاقت علی خان کو کسی پاکستانی آرمی والے نے شہید کروایا تھا۔ جس کا نام تھا جنرل اکبر۔۔۔ اس نے ایک آدمی کو ہائر کیا تھا اس کام کے لیے۔ جیسے اس ہائر آدمی نے فائر کیا تو پیچھے سے جنرل اکبر نے اسے گولی سے مار دیا اس طرح ثبوت ہی مٹ گیا۔ 


 چونکہ کشمیر میں آزادی کی جنگ ہورہی تھی، تو انہوں نے امریکی اشارے پر جنگ رکوائی تھی یہ وجہ سے مارنے کی۔ سری نگر صرف 3 دن کے فاصلے پر رہ گیا تھا۔ اگر جنگ صرف 3 دن ہی مزید لڑ لی جاتی تو کشمیر ہمارا تھا۔ سری نگر ہمیں مل چکا تھا۔ ان کے قتل کی بھی تحقیقات ہوئیں تھیں، مگر کچھ حاصل نہ ہوسکا تھا۔ یوں یہ قتل بھی اندھا ہو کر مٹی میں مل گیا۔ اب دراصل دیکھا جائے تو خان لیاقت علی خان بھی شہید نہیں کہلائے کیونکہ وہ امریکی ایجنٹ نکلے۔ انہوں نے امریکی اشارے پہ کشمیر میں جنگ رکوائی تھی۔

 

یہ بہت پرانی بات تھی کہ لاہور میں گڑھی شاہو میں شرابیں عام بکتی ہیں۔ یہ 1990ء کے دور میں بھی مشہور تھا۔ یہ آج بھی بکتی ہیں۔ لاہور میں ہی کچھ ہوٹل ایسے بھی ہیں جو فٹ پاتھوں پہ رات دس بجے کے بعد سرعام شراب بیچتے اور پلاتے ہیں لوگوں کو۔ لاہور میں گڑھی شاہو کا علاقہ شرابوں کا ہیڈ کواٹر سمجھا جاتا ہے۔

 

پاکستان کے ہوٹلوں حتی کہ دینی مدرسوں تک میں ہم جنس پرستی کی حرکتیں عام ہوتی ہیں۔ پاکستان کی افواج میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے، پاکستان کی افواج میں سب سے زیادہ ہم جنس پرستی کی حرکات عام ہوتی ہیں۔ ان میں رینجرز، فوج، فضائیہ، ملٹری پولیس، عام پولیس، نیوی، وغیرہ سب شامل ہیں۔ یہ لوگ بھی شرابیں پیتے ہیں۔ یحیحی خان بھی پیتا تھا، ایوب خان بھی پیتا تھا، مشرف بھی پیتا تھا۔

 

پاکستان میں اسلام آباد میں ایسے ہوٹل بھی بن چکے ہیں جہاں پاکستانی تک نہیں جا سکتے۔ صرف وہ جس کے پاس دہری شہریت ہے۔ یہ سب لوگ وہاں جا کر شرابیں پیتے ہیں۔ یہ ہوٹل فرانس کی ملکیت ہیں۔

 

مولویوں نے دین کو بدنام کیا ہوا ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ۔۔۔ یہ آنکھوں کے اندھے ہیں انہیں نظر نہیں آرہا جس ریاست میں شرابیں پی جاتی ہیں اور جس ریاست کو قرضوں پہ چلایا جارہا ہو وہ کلمہ پڑھ کے نہیں بنائی جاسکتی۔ ان مولویوں کا کلمہ تو 1971ء میں ہی ٹوٹ چکا تھا۔

 

رمضان ٹرانسمیشن میں رمضان کو بیچا جاتا ہے۔ کیا رمضان ٹرانسمیشن اسلام میں جائز ہے؟؟؟ کیا 1400 سال پہلے ایسی تقریبات ہوتی تھیں؟ یہاں تو چیزوں کی نمائش کی جاتی ہے۔ اسی رمضان ٹرانسمیشن میں علماء کرام تک بیٹھتے ہیں۔ ان کو پیسے ملتے ہیں۔ یہ ان کا بزنس ہے۔ یہاں کبھی کبھی موسیقی تک بجائی گئی ہے مختلف نیوز چینلز سے۔ تقریباً 2010ء سے لے کر 2017ء تک کے پروگرام تو ذرا کھول کر دیکھیں اس میں موسیقی بجتی سنائی دے گی۔ یہ رمضان ٹرانسمیشن کا سلسلہ 2000ء کے بعد سے شروع ہوا جب میڈیا الیکٹرانک ہوا۔ یہ رمضان ٹرانسمیشن بھی حرام ہے۔

 

یہ جو جماعت اسلامی آپ پاکستان کی دیکھتے ہیں، یہ دراصل مولوی مودودی نے بنائی تھی۔ یہ پہلے تو پاکستان کے خلاف تھے، مہاجروں کو گالیاں دیتے تھے۔ بعد میں تھوک کے چانٹا۔ تھوک کے یہ چانٹا کہ پاکستان آگئے ہجرت کرکے، خود مہاجر بھی بن گئے اور یہاں آکے فساد برپا کرنے کے لیے اپنی الگ جماعت اسلامی کھول لی۔۔۔ ایسے جماعت اسلامی کی بنیاد پاکستان میں پڑی۔ یہ شروع سے نہیں تھی۔

 

یہ پاکستان کی جماعت اسلامی دراصل پاکستان کے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کھولی گئی تھی۔ یہ مولوی مودودی نے اپنی مودودیت پھیلائی۔ اصل جماعت اسلامی تو وہ ہے جو انڈیا کی تھی اور ہے، جو تقسیم ہند نہیں چاہتی تھی۔ یہ چاہتی تھی کہ ہندوستان برصغیر میں اسلام پھیلایا جائے جو نیک کام تھا۔ آج پاکستان کی جماعت اسلامی بری طرح سیاست کرتی ہے۔ سیاست میں پڑی ہوئی ہے۔ سیاست کا تو مذہب سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ یہ سیاست کرنا کیا اسلام میں جائز ہے؟؟؟ سیاست میں تو ہوتا ہی جھوٹ ہے۔ یہ جماعت اسلامی کے ملا مولوی ایک نمبر کے جھوٹے اور فریبی ہیں۔ داڑھی سجا کے چہرے پہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ مکاری دیکھاتے ہیں۔ ایک نمبر کے مکار ہیں۔ یہ مولوی مکمل طور پر جھوٹ کا پلندہ ہیں۔

 

میں نے پاکستان میں مولویوں کی قوم سے زیادہ خبیث اور بےہودہ کوئی اور قوم پوری دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں دیکھی۔ یہ بہت مشہور بات ہے کہ جب مولویوں کی داڑھی بڑی ہوجاتی ہے تو ساتھ میں ان کی عقل بھی پیروں میں چلی جاتی ہے۔ پیروں سے دیکھتے ہیں، پیروں سے سوچتے ہیں، پیروں سے بولتے ہیں۔

 

مولویوں کی جہالت کے بارے میں جانیئے کہ پاکستان بننے سے پہلے ایک واقعہ ہوا تھا برصغیر میں کہ انگریز برطانیہ سے ایک مشین لائے تھے جس کو ٹیلی گرام مشین بولتے تھے۔ جو بجلی سے چلتی تھی اور براہ راست پیغامات بھیجتی تھی یعنی ٹیلی فون تاروں سے۔ جس وقت پیغام بھیجا جاتا تھا عین اسی وقت لوگوں کو مل بھی جاتا تھا۔ یہ مشین دیکھ کر مولوی اس زمانے کے بھنا اٹھے تھے۔ کہتے تھے کہ ایسا کیسے ممکن ہے یہ تو شیطان ہے۔ وہ مانتے ہی نہیں تھے۔ مولوی اس قدر  جاہل قوم ہوتی ہے۔ وہ مولوی اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جلسے جلوس تک کرنے لگے تھے، سڑکوں پر آگئے تھے کہ ٹیلی گرام مشین حرام ہے اور شیطان ہے کہ عین اسی وقت کیسے پیغام مل جاتا ہے لوگوں کو۔ بڑی مشکل سے انگریزوں نے ان جاہل مولویوں کو سمجھایا تھا کہ بھئی یہ مشین ہے ٹیلی گرام کی۔ آج انہی مولوی کی نسل وٹس اپ استعمال کرتے ہیں، آج مان رہے ہیں اس کو۔

 

اس زمانے کے مولوی کہتے تھے کہ ناسا والے پاگل ہوگئے ہیں چاند پہ جارہے ایسا کیسے ممکن ہے۔ چاند پہ کون جاسکتا!!! لیکن وہ گئے اور تصاویر اتار کرلائے۔ پھر ان کو ماننا پڑا۔ یہ مولویوں کی جہالت کا حال ہے جو آج بھی قائم و دائم ہے۔ یہ خر دماغ ہوتی ہے، موٹے دماغ کے۔ ان میں عقل کم ہوتی ہے۔ پیروں سے سوچتے ہیں پیروں سے بولتے ہیں اور پیروں سے دیکھتے ہیں۔ ان کی عقل پیروں میں ہوتی ہے یعنی ٹخنوں میں۔

 

آج کل کے دور کے ملا مولوی تو انتہائی امیر ہوگئے ہیں بھئی۔ پہلے کہتے تھے ملا کی دوڑ مسجد تک۔ اب تو زمانے ہی بدل گئے ہیں بھئی۔ یہی ملا مولوی اب اتنے امیر ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس لینڈ کروزر تک آگئے ہیں۔ ذرا دینی مدرسوں کا دورہ تو کریں آپ کو معلوم ہوگا۔ یہ ان کا بزنس بن چکا ہے۔ جب پاکستان بنا تھا تو ملا مولوی سائیکل پر جاتے تھے  بچوں کو قرآن پڑھانے اور یقین کریں کہ ایک روپیہ فیس نہیں لیتے تھے۔ یہ سن 70ء کے بعد سے انہوں نے فیسیں بٹورنا شروع کیں تھیں جب مشرقی کلمہ ٹوٹا تھا۔ اب تو یہ بھی انکا بزنس بن چکا ہے بچوں کو گھر جا کر قرآن پڑھانا اور پیسے لینا۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کون ان کے دینی مدرسوں کی فنڈنگ کررہا ہے۔ اتنا پیسہ ان کے پاس کہاں سے آیا؟ پہلے مولوی غریب آدمی سمجھا جاتا تھا اور آج کل کے ملا مولوی تو لینڈ کروزر میں دندناتے پھرتے ہیں اور خودکش حملے تک کرتے پھرتے ہیں۔ بہت سے ملا مولویوں کی تنظیمیں پاکستان میں کلعدم قرار دی جاچکی ہیں۔ یہ دہشت گرد ہوتے ہیں آج کل کے مولوی، نہایت بدمعاش ہوتے ہیں۔ ان کا کیس بھی نیب میں بھیجنا چاہیے۔ ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے دینی مدرسوں میں اتنا پیسہ کہاں سے آرہا؟ یہ نیب بہت اچھا ادارہ ہے۔ ایسے لوگوں کو جوتے مارنے کے لیے اسے ہونا چائیے۔

 

میرا ایک اہم ترین سوال کہ جو شخص کراچی میں پیدا ہوا، وہ اپنے دور میں دلی بھی گیا، کلکتہ بھی گیا، بمبئی بھی گیا، لکھنؤ بھی گیا، الہ آباد شہر میں خطاب بھی کیا جس کو آپ خطبہ آلہ آباد کہتے ہیں، وہ اتنے سارے شہروں میں گھوما پھرا، وہ کیسے یہ چاہے گا کہ اس کا دیس تقسیم ہو؟؟؟ یعنی تقسیمِ ہند!!!

 

اگر آپ کے سامنے آپکی جوانی میں پاکستان 1971ء میں ٹوٹا تھا آپ نے خود دیکھا تھا تو جس جس نے دیکھا تھا اپنی آنکھوں سے تو اسے یقیناً دکھ ہوا ہوگا کہ ہمارا ایک صوبہ ہاتھ سے نکل گیا۔ تو ٹھیک اسی طرح اس بات پر غور کرلیا جائےتو سب کے لیے سمجھنے میں آسانی ہوجائے گی کہ قائداعظم کیسے یہ چاہ سکتے تھے کہ ان کا دیس برصغیر تقسیم ہو؟؟؟ کون اپنا دیس ٹوٹتا ہوا دیکھنا پسند کرے گا؟؟؟ یہ سب نہرو کا چلایا ہوا چکر ہی تھا۔

 

علامہ اقبال کی حقیقت اور ان کا خواب:

ایک بات میں آپ کو اور بتاتا چلوں جو کہ ایک راز ہے۔ وہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے اپنی زندگی میں کالج لائف میں ایک طوائف عورت کا قتل بھی کیا تھا۔ یہ لاہور کی ہیرا منڈی کی ایک طوائف عورت تھی۔ ان کے خلاف باقاعدہ ایک مقدمہ بھی چلا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق جس وقت قتل ہوا تھا یہ کالج میں تھے۔ باقاعدہ ان کی حاضری بھی لگی تھی۔ یہ حاضر تھے۔ یہ کالج ٹائمنگز کے مطابق بیچ میں سے کوئی وقت نکال کر باہر چلے گئے تھے اور کسی وجہ سے ایک طوائف عورت کا قتل کیا تھا۔ آلہ قتل کیا تھا اور اس کا کیا بنا تھا یہ نہیں کہا جاسکتا۔ تمام گواہوں کے بیانات کے مطابق فیصلہ یہ ہوا تھا کہ علامہ اقبال اس وقت کالج میں ہی تھے۔ یہ بری ہوگئے۔ کیونکہ اس قتل کا کوئی گواہ یا ثبوت نہ ملا تھا۔ سنا یہ تھا کہ اس مقتول عورت کے آس پاس اس کا جاننے والا کوئی موجود تھا جس نے علامہ اقبال کو قتل کرتے دیکھا تھا۔ اسی نے مقدمہ درج کیا تھا۔

آج علامہ اقبال کے خاندان میں قادیانی بھرے۔ پہلے کہاں ایک زمانے میں ان کے بزرگوں میں صوفی بزرگ تک گزرے یہ ان کے برے اعمال نامے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔

جب زندگی کے آخری لمحات آئے تو انہوں نے اپنے اسی وکیل کو بلایا اور تمام راز ازخود بتا دیئے۔ خود اقبالِ جرم کرلیا۔ وکیل بھی حیران تھا کہ یہ کالج سے کیسے بھاگے اور جا کے ایک طوائف عورت کا قتل کردیا اور قتل کرکے واپس بھی آگئے۔ وکیل نے اس معاملہ کو اس زمانے کے مختلف رائٹر حضرات کو بتایا تو انہوں نے کتابوں میں قلم بند کردیا۔ جب پاکستان بنا تو ایسی کتابوں کو پاکستان میں آنے پر پابندی لگا دی گئی تاکہ یہ راز راز ہی رہے۔ کیونکہ علامہ اقبال کا انتقال 1938ء میں پاکستان بننے سے پہلے ہوگیا تھا۔ اس اندھے قتل کے راز کو  مٹی میں دبا دیا گیا۔ یوں یہ معاملہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا اور ویسے بھی علامہ اقبال عدمِ ثبوت کی بناء پر بری ہوچکے تھے۔ میرے ذاتی تجربے کی بناء پر اسی قتل کی بناء پر انہیں یہ خواب آیا کہ حضورﷺ صلی علیہ والہ وسلم ان کے خواب میں تشریف لائے ہیں اور پاکستان بننے کے بارے میں کچھ فرمایا۔ میرے حساب کے مطابق آپﷺ  صلی علیہ والہ وسلم  کو خواب میں دیکھنا کچھ ٹھیک نہیں ہوتا۔ اس خواب پر جب عمل ہوا تو پاکستان بنا اورمسلمان ہی تقسیم ہوئے۔ علامہ اقبال کو اس مسلمانانِ تقسیم ہند کا حساب قیامت کے دن دینا ہوگا۔ اس میں قائدِ اعظم کا کوئی کردار نہ تھا۔ وہ تقسیم نہیں چاہتے تھے۔ وہ ہندو مسلم اتحاد چاہتے تھے۔ انہوں نے نہرو سے کہا تھا کہ ہمیں چند سیٹیں دے دو، مگر نہرو کتے نے انکار کردیا، کہا کہ "نہیں جی نہیں، ہمیں مکمل آزادی چاہیے"۔ پھر قائدِ اعظم بےچارے خاموش ہوگئے۔ اسی لیے آج بھی انڈیا میں ہندو لوگ نہرو کے بہت خلاف ہیں۔

 

ویسے آج کل کے حساب سے دیکھا جائے تو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ پاکستان پاکستانیوں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ایک بہت بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ یہاں کوئی آزادی وزادی نہیں ہے۔ مینار پاکستان  میں جو واقعہ ہوا تھا لڑکی والا ٹک ٹاکر وہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس لیے لی تھی ہم نے آزادی۔ وہ حرکت آزادی مینار کے عین نیچے ہوا تھا۔

 

ایک ہجرت پاکستان بننے کے وقت ہوئی تھی۔ اس ہجرت میں ہزاروں لاکھوں افراد بےگھر اور شہید ہوئے تھے۔ پھر دوسری ہجرت ہندوستانی صوبے بہار سے بنگلہ دیش کی جانب ہوئی 1971ء میں جب آپ کا کلمہ ٹوٹا تھا۔ پھر تیسری اور آخری ہجرت ہوگی، جو یہاں کراچی کے مہاجر ہجرت کرکے ہندوستان سے پاکستان آئے تھے وہ واپس ہندوستان جائیں گے۔ یہ ہجرت بھی عنقریب ہونے والی ہے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان ان کو جینے نہیں دیں گے۔

 

قائدِاعظم نے آپ کو پورا کلمہ بنا کر دیا تھا مشرقی کلمہ اور مغربی کلمہ۔ 1971ء کی جنگ میں تو آپ نے مشرقی کلمہ کھو دیا اب مغربی کلمہ بھی جانے والا ہے۔ یہ معاشی طور پر جائے گا۔

 

آج میری آںکھیں جو دیکھ رہی ہیں وہ یہ دیکھ رہی ہیں کہ پاکستان کی ریاست اپنے 100 سال بھی پورے کرتی نظر نہیں آرہی ہے۔ 100 سال سے پہلے ہی ریاست کا وجود بھی شاید ممکن نہ رہے۔ باقی کا رہا سہا کلمہ بھی عنقریب ٹوٹنے والا ہے۔ ایک زمانہ تھا کابل کا راج دلی پہ تھا اب دلی کا راج کابل تک جانے والا ہے۔

 

معاشی طور پر پاکستان ٹوٹنے والا ہے، کرنسی ٹوٹے گی۔ یہ تقریباً 2030ء کے آس پاس ہوتا نظر آرہا۔ اگر ایسا کچھ ہوا تو ذمہ دار مولوی ہونگے۔ کیونکہ انہوں نے اور ان کے بزرگوں نے دین کی تذلیل کی تھی۔ یہ تذلیل 1971ء کی جنگ میں ہوئی تھی۔ یہ اور ان کے بزرگ نعرے لگاتے تھے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ۔ کلمے کی توہین تو مولوی 1971ء میں ہی کرچکے تھے۔ باقی رہا سہا مغربی کلمہ جب ٹوٹے گا تو پھر توہین کے ذمہ دار مولوی لوگ ہونگے۔

 

 یہ مولویوں نے کیسا کلمہ پڑھا کہ ''پاکستان کا مطلب کیا لاالہ اللہ۔۔۔'' جو  برصغیر کے مسلمانوں کو تقسیم کر گیا، انہیں ہجرتوں میں شہید کیا گیا، انکی توہین کی گئی جنہوں نے ہجرت کی۔

 

میں تو کہتا ہوں کہ مولویوں کے سروں پہ جوتے پڑنے چاہئیں ان کی داڑھیاں کاٹ کر شیو کردینی چاہیئے۔ صرف مولوی عبدالحق ہی ٹھیک آدمی تھے جنہوں نے آپ کو پڑھنا لکھنا سکھایا کچھ کرکے دکھایا، آج کل کے ملا مولوی تو نہایت بےغیرت ہوتے ہیں۔

 

دوسری عالمی جنگ ہوئی تھی تو پاکستان بنا تھا۔ جب تیسری عالمی جنگ ہوگی تو پاکستان ختم ہوگا۔ دوسری عالمی جنگ سے تیسری عالمی جنگ تک کا پاکستان کا سفر اب تقریباً مکمل ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاکستان جیسے نکمے ملک سے نجات کی دعائیں مانگنا چاہئیں۔

 

مشرقی کلمہ کی آبادی مغربی کلمہ سے زیادہ تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ آپ لوگوں نے رقبہ دیکھا آبادی نہیں دیکھی۔ جیسے آج آپ کہتے ہیں کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے آبادی کا تو یہاں کا بجٹ سب سے زیادہ بنتا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا زیادہ حق بنتا ہے مسائل حل کرنے میں۔ بصورتِ دیگر بلوچستان کو سب سے زیادہ حق ملتا۔

 

میں کہتا ہوں قائداعظم لبرل تھے۔ وہ آزاد خیال تھے۔ یہ مولویوں نے بیچ میں ٹانگ پھنسائی کلمے کی توہین کی جو 1971ء میں ہوچکی تھی۔ اب دوبارہ بھی ہوتی نظر آرہی ہے۔ اگر مولوی کہتے ہیں کہ یہ ملک پاکستان مذہبی بنیادوں پر بنا تھا تو آج حالات ایسے نہ ہوتے۔ میں کہتا ہوں کہ جب پاکستان معاشی طور پر تقسیم ہوگا تو یہی کہا جائے گا بلکہ کہا جانا چاہیئے کہ پاکستان مذہبی بنیادوں پر بنا لیکن ناکام رہا، اب ملا مولوی خاموش ہوکر بیٹھیں۔ اب لبرل لوگوں کی باتیں سمجھی اور سنی  جائیں مولویوں کی نہیں۔ ہم مولویوں کو نہیں مانتے۔ انہیں فارغ کرو۔

 

پی ٹی آئی کے عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کے 3 ٹکڑے ہونے والے ہیں۔ میرے خیال میں ایسے ہونگے کہ پنجاب، سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت انڈیا کو ملیں گے یہ ایک حصہ ہوگا، پھر دوسرا حصہ صوبہ خیبر اور بلوچستان کا شمالی حصہ کوئٹہ والا یہ افغانستان کو ملے گا، پھر تیسرا حصہ بنے گا جو جنوبی بلوچستان ہوگا، بلوچی قبائلیوں کے لیے۔ یہ فری بلوچستان ہوگا اور یہی سب سے زیادہ امیر اور ترقی یافتہ بھی ہوگا، جو دبئی کی طرز پہ بنے گا۔

 

مذہبی سختیاں ہمیشہ انسان کو مار دیتی ہیں۔ مثال کے طور پہ تحریکِ لبیک والے کونسا نیک کام کرتے ہیں۔ انہوں نے پولیس والوں کو مارا تھا۔ موٹرسائیکلوں کو آگ لگائی تھی۔ اسی طرح تحریک طالبان کونسے نیک لوگ ہیں۔ اگر یہ نیک ہیں تو انہیں کلعدم کیوں کیا گیا۔ "ہم نے تمہارے لیے دین آسان بنایا"۔ یہ سختیاں مولویوں نے پیدا کیں۔

 

میرے خیال سے 9/11 پہ پاکستان پر بھی بمباری ہونا چاہیے تھی۔ جن ملکوں پہ بمباری ہوتی ہے وہی سبق سیکھتے ہیں۔ وہی ترقی کرتے ہیں جیسے جاپان۔ جاپان نے روس کے خلاف جنگ کی، جاپان نے چین کے خلاف جنگ کی، جاپان پہلی اور دوسری دونوں عالمی جنگوں میں بھی شامل تھا۔ جب امریکہ نے پہلا ایٹم بم گرایا اس پر بھی جاپان نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ پھر کچھ دنوں بعد دوسرا ایٹم بم گرایا، پھر انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ لیکن جنگوں کے بعد ہی انہوں نے ترقی کی اور جنگوں سے توبہ کی۔ پھر وہ ترقی جو پہلے کبھی نہیں کی وہ کی۔ اسی طرح جرمنی نے بھی ترقی جنگ کا مزہ چکھنے کے بعد ہی کی۔ پھر ہی دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں اپنے ملک کے لیے محبت پیدا ہوائی۔ ورنہ تو وہاں بھی کرپشن جیسی چیزیں بہت تھیں۔ جنگوں سے ملک سبق سیکھتے ہیں۔

 

پاکستان کو مولویوں نے تباہ کیا۔ مولویوں کے سروں پر بھی بم برسنے چاہیے تھے نائن الیون پہ۔ آج بہت سے ملا مولوی کلعدم قرار دیئے جاچکے ہیں۔ ان سے زیادہ جاہل کوئی قوم دنیا میں نہیں بستی۔


علامہ اقبال کی نظم شکوہ ٹھیک تھی لیکن جواب شکوہ تو بالکل ہی غلط تھی۔ یہ نکمے مولویوں کی وجہ سے لکھنا پڑی تھی۔ اس زمانے کے ملامولوی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

 

ترکی بھی اسی طرح جنگجو تھا۔ سلطنت عثمانیہ تھا۔ وہاں  بھی آئے دن جنگیں لگی رہتی تھیں۔ جب ترکی پہ انگریزوں نے حملہ کیا تو سبق مل گیا۔ ترکی میں انگریزوں نے قبضہ کرکے سو سالہ مذہبی پابندیاں عائد کیں جو 1923 میں لگی تھیں اور 2023  میں ختم ہونگی۔ پاکستان میں تو اس قدر مذہبی سختیاں اور انتہاپسندی ہے جو ترکی میں نہیں تھیں۔  مذہبی انتہا پسندی کو روکنے کے لیے پاکستان میں کم از کم تین سو سالہ مذہبی پابندیاں عائد ہونا چاہئیں۔ تین صدیوں کی۔ امریکہ نے افغانستان میں جنگ کرکے غلطی کی۔ اس کو پاکستان اور افغانستان دونوں میں تباہ کن جنگ کرنا چاہیے تھی تاکہ ملا مولویوں کو اچھا سبق ملتا۔ یہاں تین سو سال تک امریکی فوجیں قیام کرتیں۔ جیسا کہ میں پہلے بیان کرچکا ہوں کہ مولویوں نے کلمے کی توہین کی، 1971ء کی جنگ میں کلمہ ٹوٹا تھا۔

 

ایک اور بات کا معلومات میں اضافہ ہوا ہے ابھی حال ہی میں کہ پی ٹی وی پہ ایک ڈرامہ آرہا ہے ''سلطان عبدالحمید''۔ اس کی ایک قسط میں یہ بتایا گیا تھا کہ یہودیوں کا ایجنڈا تھا سن 1900ء کے آس پاس کا کہ دنیا میں تین بڑی جنگیں کروائی جائیں گی۔ پہلی دو یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان، اس کے فوراً بعد سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کرنے ہونگے، ہندوستان کے ٹکڑے کرنے ہونگے یعنی تقسیمِ ہند، یہودیوں کی آبادی بسانے کے لیے ایک الگ ملک بنانا ہوگا۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو پہلی عالمی جنگ 1914ء تا 18ء ہوئی، پھر 1919ء میں سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ہوئے، اس کے بعد دوسری عالمی جنگ ہوئی 1939ء تا 45ء۔ پھر اس کے فوراً بعد تقسیمِ ہند ہوگئی 1947ء میں، ساتھ ہی 1948ء میں اسرائیل نام کی یہودیوں کی آزاد ریاست بھی قائم کردی گئی۔ یہ مکمل طور پر یہودیوں کا ایجنڈا تھا جو پایہء تکمیل تک پہنچا۔ البتہ تیسری عالمی جنگ ابھی ہونا باقی ہے جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کروائی جائے گی اور اس جنگ کے آس پاس لادینیت پھیلائی جائے گی۔

 

پاکستان بنانا بھی اور بعد میں پاکستان کو ختم کرنا بھی برصغیر کے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی ایک ہولناک اور بہت بڑی یہودیوں کی سازش تھی۔ ایک بہت بڑا ایجنڈا تھا یہودیوں کا جو پایہء تکمیل تک پہنچا۔ ان حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے آسٹریلیا میں جب ریفرنڈم ہوا تھا تو وہاں کی عوام نے الٹا انگریزوں کے حق میں ہی فیصلہ دیا۔ انہیں انگریزوں سے آزادی مناسب نہ سمجھا کیونکہ برِصغیر کا انجام ان سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ انہوں نے سوچا برِصغیر کا یہ حال ہوا ہے کہیں ہمارا بھی نہ یہی حال ہو اس سے بہتر تو انگریزوں کی غلامی ہی بھلی۔

 

پاکستان میں پی ٹی اے کو لوگوں کے لنکس بند کرنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ لنکس بند کردینے سے حقیقت چھپ نہیں سکتی۔ اسی لیے میں نے کہا تھا کہ پاکستان پاکستانیوں کے لیے بہت بڑی رکاوٹ بنتا جارہا ہے، رکاوٹ بن چکا ہے۔ یہاں کسی کو کوئی آزادی وزادی نہیں ہے۔ یاد رکھیں سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ 2022ء میں پاکستان دیوالیہ ہوچکا ہے۔ پاکستان ایک مقروض ملک ہے۔


آج پاکستان ایک خواب ایک افسانے سے زیادہ کچھ نہیں۔

 

میرے تمام سوالات کے جوابات دیں اور حالات پہ غور کریں۔

 

آرٹیکل: مالک و مصنف: کــــاشف فــــاروق۔ لاہور سے۔

 

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

~~~~~~~~




کتاب خریدیں: پاکستان سے بنگلہ دیش تک۔
لیفٹینینٹ کرنل : شریف الحق دالیم

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

~~~~~~~~


MOLVIES ON DANCE PARTIES IN PAKISTAN












No comments:

Post a Comment